Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4396

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟» فَطَرَحَهٗ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: «مَا لِي أَرٰى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟» فَطَرَحَهٗ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهٗ مِثْقَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّوَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ -رَحِمَهُ اللهُ-: وَقَدْ صَحَّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي الصَّدَاقِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: "الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".

وعن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل عليه خاتم من شبه: «ما لي أجد منك ريح الأصنام؟» فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: «ما لي أرى عليك حلية أهل النار؟» فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: «من ورق ولا تتمه مثقالا» . رواه الترمذي وأبوداود والنسائيوقال محيي السنة -رحمه الله-: وقد صح عن سهل بن سعد في الصداق أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل: "التمس ولو خاتما من حديد".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جس پر تانبہ کی انگوٹھی تھی ۱؎مجھے کیا ہوا کہ میں تم سے بتوں کی بو پاتا ہوں ۲؎اس نے وہ پھینک دی پھر آیا تو اس پر لوہے کی انگوٹھی تھی تو فرمایا کہ مجھے کیا ہوا کہ تم پر دوزخیوں کا زیور دیکھتا ہوں۳؎اس نے وہ پھینک دی۴؎پھر عرض کیا یارسول اللہ کس چیز کی انگوٹھی بناؤں فرمایا چاندی کی اور اس کی ایک مثقال پوری نہ کرو ۵؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی)محی السنہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سہل ابن سعد سے بروایت صحیح ثابت ہے مہر کے متعلق کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ کچھ ڈھونڈھو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ تانبے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے۔
۲
؎اس زمانہ میں بھی اور اب بھی عمومًا بت پیتل کے ہوتے تھے اس لیے اسلام نے پیتل کے زیور ہر مسلمان کے لیے منع فرمائے خواہ مرد ہو یا عورت،انگوٹھی چھلہ بھی زینت کے لیے ہے یہ بھی پیتل کا ممنوع ہے۔
۳
؎دوزخی لوگ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے جائیں گے یہاں ان زنجیروں کو زیور فرمانا ان کی اہانت کے لیے ہے جیسے قیدی کی ہتھکڑی اور بیڑی کو اس کا زیور کہہ دیا جائے۔
۴
؎کہ نہ اپنے آپ استعمال کی نہ اپنی بیوی کو استعمال کے لیے دی کیونکہ پیتل لوہے کا زیور مرد وعورت سب کو ہی حرام ہے۔خیال رہے کہ سونے چاندی کا استعمال مطلقًا حرام ہے کہ مسلمان مرد نہ اس کا زیور پہنے نہ کسی اور طرح استعمال کرے،عورتوں کو ان کے زیوروں کی اجازت ہے دوسری طرح استعمال کرنا انہیں بھی حرام ہے لہذا سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا،یوں ہی ان کی گھڑی میں وقت دیکھنا،ان کی سلائی سے سرمہ لگانا حرام ہے،ہاں ان کا کشتہ کھانا یا علاج کے لیے سونے کی سلائی آنکھ میں پھیرنا حلال ہے کہ یہ علاج ہے۔ان کے علاوہ دیگر دھاتوں کا زیور حرام ہے ان کا استعمال دوسری طرح درست ہے،لہذا تانبا پیتل لوہے وغیرہ کے برتن گھڑیاں وغیرہ تمام کا استعمال درست ہے غرضیکہ استعمال میں کئی طرح فرق ہے۔
۵
؎لہذا مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی سوا چار ماشہ تک کی درست ہے۔
۶
؎شاید اس فرمان عالی کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوہے کی انگوٹھی بھی پہننا جائز ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی سے یہ کیوں فرماتے کہ اپنی بننے والی عورت کے مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرلو مگر یہ استدلال بہت کمزور ہے۔اولًا تو اس لیے کہ اس فرمان عالی کے وقت لوہے پیتل کی حرمت کے احکام اسلام میں نہیں آئے اور اگر مان لیا جائے کہ احکام آچکنے کے بعد کی یہ حدیث ہے تب بھی اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ کوئی نہایت معمولی چیز ہی لے آ جیسے کہا جاتا ہے کہ تم مجھے دومٹھی بھر خاک ہی دے دو۔اس کا مقصد یہ نہیں کہ خاک پھانکنا درست ہے۔نیز وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ حضور انور کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا خول یا پانی تھا وہ انگوٹھی صرف مہر لگانے کی تھی پہننے کی نہ تھی،اگر پہننے کی تھی تو لوہے کی حرمت سے پہلے کا یہ واقعہ ہے۔یہ حدیث ان سب کی ناسخ ہے،دیکھو اس کی تفصیل کے لیے مرقات شرح مشکوۃ یہ ہی مقام ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4396