Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4694

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلّٰى أَرْبَعًا قَبْلَ الْهَاجِرَةِ فَكَأَنَّمَا صَلَّاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمِیْنَ إِذَا تَصَافَحَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُمَا ذَنْبٌ إِلَّا سَقَطَ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

وعن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى أربعا قبل الهاجرة فكأنما صلاهن في ليلة القدر والمسلمین إذا تصافحا لم يبق بينهما ذنب إلا سقط . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دوپہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھ لے ۱∞؎تو گویا اس نے وہ شبِ قدر میں پڑھیں ۲؎اور دو مسلمان جب آپس میں مصافحہ کریں تو ان کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہتا مگر جھڑ جاتا ہے ۳؎(بیہقی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز چاشت جس کا وقت شرو ع چہارم دن سے شروع ہوکر نصف دن یعنی دوپہر پر ختم ہوجاتا ہے اس کے بڑے فضائل ہیں۔
۲
؎کیونکہ ان کے پڑھنے میں مشقت و محنت زیادہ ہے کہ دوپہر کی گرمی اور بھوک کی حالت میں پڑھی جاتی ہے،نیز اس وقت کھانا کھاکر آرام کرنے کو دل چاہتا ہے اس لیے ان کا ثواب زیادہ ہے۔
۳
؎یعنی گناہ صغیرہ جھڑ جاتے ہیں خصوصًا وہ گناہ جو ہاتھوں سے کیے جاویں،گناہ کبیرہ توبہ سے اور حقوق العباد ادا کرنے سے معاف ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ چوری ڈکیتی کر لی جاوے کسی کا مال مار لیا جاوے بعد میں کسی سے مصافحہ کرلیا جاوے سب معاف ہو۔نعوذ بالله!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4694