Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4691

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَقَبَّلَهٗ فَقَالَ: أَمَا أَنَّهُمْ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّهُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللهِ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بصبي فقبله فقال: أما أنهم مبخلة مجبنة وإنهم لمن ريحان الله . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا ۱∞؎تو آپ نے اسے چوما پھر فرمایا کہ یقینًا یہ بخیل اور بزدل بنانے والے ہیں ۲؎اور یہ الله کے اعلیٰ رزق سے ہیں ۳؎(شرح السنہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کا اپنا بچہ حضرت حسن یا حسین یا کسی اور کا بچہ۔
۲
؎کہ اولاد کی وجہ سے ماں باپ مال کنجوسی سے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اولاد ہی کی وجہ سے باپ جنگ میں جانے سے کتراتا ہے کہ میرے بچے میرے بعد کہاں جائیں گے کیا کریں گے یہ عام لوگوں کے عام حالات کا بیان ہے۔
۳
؎ریحانخوشبودار سبزے کو بھی کہتے ہیں اور طیب و اعلٰی روزی کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں، ماں باپ انہیں چومتے سونگھتے ہیں لہذا یہ الله کی عطا کی ہوئی بہترین خوشبو ہیں یہ ماں باپ کے دل کا پھل ہیں لہذا یہ بہترین رزق ہیں۔ (مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4691