Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4690

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ فَإِذاً عَائِشَةُ اِبْنَتَہٗ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن البراء قال: دخلت مع أبي بكر أول ما قدم المدينة فإذا عائشة ابنتہ مضطجعة قد أصابتها حمى فأتاها أبو بكر فقال: كيف أنت يا بنية؟ وقبل خدها. رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں اولین آمد کے موقعہ پر حضرت ابوبکر کے ساتھ گیا ۱∞؎تو آپ کی دختر جناب عائشہ لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آگیا تھا۲؎تو ان کے پاس ابوبکر آئے بولے اے بچی تو کیسی ہے اور انکا رخسا چوما ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت براء ابن عازب مشہور صحابی ہیں،انصاری حارثی ہیں،آخر میں کوفہ میں قیام رہا، ۲۴ھ؁∞ میں کئی علاقہ کے فاتح آپ ہیں،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،کوفہ میں ہی وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کے قریب ہی خود بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئیں تھیں۔
۲
؎کیونکہ اس زمانہ میں زمین مدینہ بڑی وبا والی تھی اس لیے اسے یثرب کہتے ہیں جو مہاجر وہاں پہنچتے تھے انہیں بخار آجاتا تھا اس سلسلہ میں حضرت ام المؤمنین کو بھی بخار آگیا،پھر حضور کے دم قدم سے وہ جگہ ایسی صحت بخش بنادی گئی کہ وہاں کی خاک بجائے خاک وباء کے خاک شفا بن گئی،حضور فرماتے ہیںتربۃ ارضناریقۃ بعضنا یشفی سقیمنا۔
۳
؎معلوم ہوا کہ باپ اپنی جوان بچی کا رخسار چوم سکتا ہے یہ چومنا رحمت کا ہے سنت سے ثابت ہے،حضور انور نے اولاد کے رخسار چومے ہیں۔بنیۃتصیغربنتکی بمعنی چھوٹی سی لڑکی اسے اردو میں کہتے ہیںبنیایہ تصغیر پیار کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4690