Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4689

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهٖ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهٖ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: ما رأيت أحدا كان أشبه سمتا وهديا ودلا. وفي رواية حديثا وكلاما برسول الله صلى الله عليه وسلم من فاطمة كانت إذا دخلت عليه قام إليها فأخذ بيدها فقبلها وأجلسها في مجلسه وكان إذا دخل عليها قامت إليه فأخذت بيده فقبلته وأجلسته في مجلسها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہیئت عادت صورت میں ۱∞؎ایک روایت میں ہے اور بات و گفتگو میں پورا پورا مشابہہ ہو بمقابلہ جناب فاطمہ کے آپ جب حضور کی خدمت میں آتیں تو حضور ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کا ہاتھ پکڑتے انہیں چومتے انہیں اپنی مجلس میں بٹھاتے ۲؎اور جب حضور انور ان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے لیے کھڑی ہوجاتیں حضور کا ہاتھ پکڑتیں اسے بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بیٹھالیتیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سمتکے معنی ہیں ہیئت یعنی رفتار گفتار،کردار اور چال ڈھال،ھدیابمعنی عادتدلُّلام کے شد سے بمعنی صورت یعنی حضرت خاتون جنت حضور صلی الله علیہ وسلم کی جیتی جاگتی چلتی پھرتی بولتی تصویر تھیں بلکہ تصویر صرف شکل دکھاتی ہے آپ سرکار تو سیرت و خصلت میں بھی حضور کا نمونہ تھی قدرت نے ایک سانچہ میں یہ دو صورتیں ڈھالی تھیں ایک ہمارے مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی دوسری حضور فاطمہ زہرہ کی،ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
رسول الله کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیانظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا
نبی کی لاڈلی بانو ولی کی ماں شہیدوں کی یہاں جلوہ نبوت کا ولایت کا شہادت کا
۲
؎حضرت فاطمہ زہرا کے لیے حضور کا کھڑا ہونا تعظیم کا نہ تھا کہ تعظیم اپنے سے بڑے کی ہوتی ہے بلکہ خوشی کا قیام تھا ایسے ہی یہ بوسہ محبت و پیار کا تھا۔ساری اولاد میں حضور کو جناب فاطمہ زہرا بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں اور آپ کی والدہ جناب خدیجہ آپ کے لڑکپن میں وفات پا گئی تھیں تو آپ حضور کی گود میں حضور کی آغوش میں پلیں رضی الله تعالی عنہا۔
۳
؎حضرت خاتون جنت کا یہ قیام وغیرہ حضور کی تعظیم کے لیے تھا جس میں محبت و جوش کی چاشنی تھی۔معلوم ہوا کہ تعظیم کے لیے قیام سنت فاطمہ زہرا ہے اور خوشی کے لیے قیام سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم۔ معلوم ہوا کہ جوان بیٹی کو چومنا اور جوان بیٹی کا اپنے باپ کو چومنا جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4689