Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4692

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ يَعْلٰى قَالَ: إِنَّ حَسَنًا وحُسَيْناً اِسْتَبَقَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ

عن يعلى قال: إن حسنا وحسينا استبقا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فضمهما إليه وقال: إن الولد مبخلة مجبنة . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے یعلیٰ سے ۱∞؎کہ حسن اور حسین رسولالله صلی الله علیہ وسلمکے پاس دوڑتے ہوئے آئے تو حضور نے انہیں اپنے سے چمٹا لیا اور فرمایا کہ اولاد بخیل اور بزدل بنا دینے والی ہے۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں یعلیٰ ابن مرہ مراد نہیں بلکہ یعلیٰ ابن امیہ مراد ہیں جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور غزوہ حنین، طائف،تبوک میں حاضر ہوئے،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ رہے اسی میں شہید ہوئےرضی الله عنہ،آپ سے بہت حضرات نے روایات لیں۔(مرقات)۲؎اولاد کومجبن مبخلفرمانا ان کی برائی کے لیے نہیں بلکہ انتہائی محبت کے اظہار کے لیے ہے یعنی اولاد کی انتہائی محبت انسان کو بخیل و بزدل بن جانے پر مجبور کردیتی ہے۔یہ بات فطری ہے اگرچہاللهوالوں میں اس کا ظہور کم ہوتا ہے مؤمن کواللهرسول بمقابلہ اولاد پیارے ہوتے ہیںلایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ،الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4692