Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4678

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَبَّلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِيْ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَثَمَّ لُكَعُ فِي بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ إِنْ شَاءَ تَعَالٰى وَذَكَرَ حَدِيثَ أُمِّ هَانِئٍ فِي بَابِ الْأَمَانِ

وعن أبي هريرة قال: قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي وعنده الأقرع بن حابس. فقال الأقرع: إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحدا فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: من لا يرحم لا يرحم (متفق عليه)وسنذكر حديث أبي هريرة : أثم لكع في باب مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وعليهم أجمعين إن شاء تعالى وذكر حديث أم هانئ في باب الأمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسن ابن علی کو چوما ۱∞؎اور آپ کے پاس اقرع ابن حابس تھے ۲؎وہ بولے کہ میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہ چوما۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا وہ رحم نہیں کیا جاتا ۴؎(مسلم بخاری) ہم جناب ابوہریرہ کی حدیثاثم لکعمناقب اہل بیت نبی صلی الله علیہ وسلم کے باب میں ذکر کریں گےان شاءاللهاور ام ہانی کی حدیثباب الامانمیں ذکر کردی گئی ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎ان کے رخسار چومے یا سر یا دونوں،تیسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔
۲
؎اقرع ابن حابس فتح مکہ کے سال بعد فتح بنی تمیم کے وفد میں حضور انور کی خدمت میں آئے اپنی قوم میں بہت باعزت تھے۔
۳
؎یعنی میں نے ساری عمر اپنے کسی بچہ کو نہ چوما آپ بچوں کو کیوں بوسہ دیتے ہیں۔خیال رہے کہ بوسہ پانچ قسم کے ہیں: بوسۂ مؤدت جیسے ماں باپ کے ہاتھ پاؤں چومنا، بوسۂ رحمت جیسے اپنے بچوں کو چومنا، بوسۂ شہوت جیسے اپنی بیوی کو چومنا، بوسۂ تحیۃ جیسے مسلمانوں کا ایک دوسرے کو چومنا، بوسۂ عبادت جیسے سنگ اسود یا قرآن مجید کو چومنا۔(از اشعہ)حضور کا یہ بوسہ بوسۂ رحمت تھا۔
۴
؎یعنی بچوں کو چومنا بوسۂ رحمت ہے جس کے دل میں رحم نہیں اس پرخدا تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ اپنے ننھے بچوں کو کبھی کبھی چومنا واجب ہے۔(مرقات)۵؎یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں اسی جگہ تھیں ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان بابوں میں ذکر کیا۔خیال رہے کہ حدیثمن لا یرحم لا یرحمیعنی جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔اسے مسلم،بخاری،احمد،ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی نے مختلف راویوں سے نقل کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4678