Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4687

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَعْفَرَ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهٖ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتّٰى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَنِي ثُمَّ قَالَ: " مَا أَدْرِي: أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ . وَوَافَقَ ذٰلِكَ فَتْحَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ "

وعن جعفر بن أبي طالب في قصة رجوعه من أرض الحبشة قال: فخرجنا حتى أتينا المدينة فتلقاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعتنقني ثم قال: " ما أدري: أنا بفتح خيبر أفرح أم بقدوم جعفر؟ . ووافق ذلك فتح خيبر. رواه في شرح السنة "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جعفر ابن ابی طالب سے کہ زمین حبشہ سے لوٹنے کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ ہم چلے حتی کہ ہم مدینہ پہنچے تو مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ملے حضور نے مجھے گلے لگالیا پھر فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں خیبر کی فتح سے زیادہ خوش ہوا یا جعفر کے آنے سے اور اتفاقًا یہ آمد فتح خیبر کے دن ہوئی تھی ۱∞؎(شرح السنہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جعفر ابن ابی طالب یعنی حضرت علی شیرخدا کے بھائی جب حبشہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے خیبر میں ہی ملاقات ہوگئی،اس دن فتح خیبر ہوئی تھی حضور انور نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو خیبر کی غنیمت سے حصہ بھی دیا اور ان کو چوم کر یہ فرمایا کہ آج مجھے الله نے دو خوشیاں دکھائیں ہیں: ایک فتح خیبر،دوسری تمہاری۔ یہ دونوں خوشیاں ایسی عظیم الشان ہیں کہ ان میں سے کسی کو دوسری پر ترجیح دینا مشکل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4687