Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4681

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَن يَّضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهٗ عَلٰى جَبْهَتِهٖ أَوْ عَلٰى يَدِهٖ فَيَسْأَلَهُ:كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهٗ

وعن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " تمام عيادة المريض أن يضع أحدكم يده على جبهته أو على يده فيسأله:كيف هو؟ وتمام تحياتكم بينكم المصافحة ". رواه أحمد والترمذي وضعفه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار کی پوری مزاج پرسی یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھے پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے ۱∞؎اور تمہاری آپس کی پوری تحیت مصافحہ ہے ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے اسے ضعیف کہا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب کوئی شخص کسی بیمار کی مزاج پرسی کرنے جاوے تو اپنا ہاتھ اس کے سر یا ہاتھ پر رکھے پھر زبان سے یہ کہے اس سے بیمار کو تسلی ہوتی ہے مگر بہت دیر تک ہاتھ نہ رکھے رہے یہ ہاتھ رکھنا اظہار محبت کے لیے ہے۔
۲
؎بوقت ملاقات صرف سلام کرنا ادنی درجہ ہے اور معانقہ کرنا انتہائی حالت ہے،ہروقت معانقہ تکلیف کا باعث ہے،درمیانی حالت یہ ہے کہ بوقت ملاقات سلام بھی کرے مصافحہ بھی اور درمیانی حالت ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4681