Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4680

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقٰى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهٗ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا . قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهٗ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا . قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهٖ وَ يُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: قال رجل: يا رسول الله الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: لا . قال: أفيلتزمه ويقبله؟ قال: لا . قال: أفيأخذ بيده و يصافحه؟ قال: نعم . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول الله ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے فرمایا نہیں ۱∞؎کہا کیا اس سے لپٹ جاوے اور اسے چومے فرمایا نہیں ۲؎عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اور اس سے مصافحہ کرے فرمایا ہاں۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ جھکنا رکوع ہے اور غیر خدا کو جیسے سجدہ کرنا حرام ہے ایسے ہی رکوع کرنا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے جھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے۔
۲
؎لپٹنے اور چومنے کی ممانعت کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں: ہر ایک سے معانقہ کرنا،ہر ایک کے ہاتھ پاؤں چومنا منع ہے،خاص بزرگوں کی دست و پا بوسی اور خاص پیاروں کو گلے لگانا جائز ہے یا دنیاداروں مالداروں سے خوشامد کے لیے لپٹنا،ان کے ہاتھ پاؤں چومنا درست نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں معانقہ اور دست و پا بوسی کا ثبوت ہے،حضور نے بعض صحابہ سے معانقہ کیا ہے اور صحابہ نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے ہیں۔(مرقات،لمعات،اشعہ)۳؎یعنی مصافحہ کرنا ہر مسلمان سے سنت ہے بوقت ملاقات مصافحہ کرے بوقتِ وداع نہ کرے کہ وداع کے وقت مصافحہ کرنے سے محبت گھٹتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4680