Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4688

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَارِعٍ وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن زارع وكان في وفد عبد القيس قال: لما قدمنا المدينة فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل يد رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجله. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زارع سے ۱∞؎اور وہ عبدالقیس کے وفد میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے تو ہم اپنی سواریوں سے جلد ی آنے لگے ۲؎تو ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومتے تھے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ زارع ابن عامر ابن عبدالقیس ہیں،عبدالقیس قبیلہ کے وفد میں آپ بھی حاضر بارگاہ ہوئے تھے ایمان لائے،صحابی بنے، بصرہ میں قیام رہا۔(مرقات)۲؎یعنی جب مدینہ پہنچے تو شوق ومحبت میں بے خود ہوگئے اپنی سواریوں سے جلد جلد اتر کر حضور انور کی طرف دوڑنے لگے زیارت کے لیے،آج بھی حجاج جب مدینہ منورہ پہنچتے ہیں تو انہیں سامان رکھنا مشکل پڑ جاتا ہے یہ تڑپ وہ جانے جس کے دل سے لگی ہو۔اسی وفد میں ایک صاحب تھے جن کا نام تھا وشج یہ سردار قافلہ تھے،یہ اپنی سواری سے اترے،غسل کیا،سفید عمدہ لباس پہنا،پھر مسجد شریف میں آکر دو رکعت نفل ادا کی،پھر نہایت ادب و انکسار خشوع وخضوع سے بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوئے حضور انور ان کے اس ادب سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ تمہاری دو خصلتیں الله کو بڑی پیاری ہیں: ایک حلم، دوسرے وقار۔(اشعہ)۳؎اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے ہاتھ پاؤں دونوں چومنا جائز بلکہ مستحب ہے خواہ پاؤں پر ہاتھ رکھ کر ہاتھوں کو چومے خواہ پاؤں پر منہ رکھ کر چومے دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں کیونکہ مصافحہ کرکے اپنا ہاتھ چومنا منع ہے،بزرگوں کے ہاتھ اپنے منہ سے چومے ایسے ہی ان کے پاؤں اپنے منہ سے چومے آنکھیں ان کے قدموں سے ملے۔مبارک ہیں وہ ہونٹ اور آنکھیں جو حضور کے قدم شریف سے لگ جاویں۔شعر
اشارہ آپ کا پاتے ہم آتے اپنی آنکھوں سے تمہارے آستانہ کو لگاتے اپنی آنکھو ں سے
تم آتے خواب میں ہم پتلیاں قدموں سے مل لیتے ہم اپنی سوئی قسمت کو جگاتےاپنی آنکھوں سے
پا بوسی کو سجدہ سمجھنا جہالت ہے،سجدہ میں سات اعضاء زمین پر لگنا اور سجدہ کی نیت ہونا ضروری ہے قدم بوسی میں یہ کچھ نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4688