Main Icon

باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4682

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهٗ وَاللّٰهِ مَا رَأَيْتُهٗ عُرْيَانًا قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ فَاعْتَنَقَهٗ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة قالت: قدم زيد بن حارثة المدينة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فأتاه فقرع الباب فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم عريانا يجر ثوبه والله ما رأيته عريانا قبله ولا بعده فاعتنقه وقبله. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ زید ابن حارثہ مدینہ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرے گھر میں تھے ۱ ∞؎وہ حضور کے پاس آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی طرف برہنہ چلے اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے ۲؎بخدا میں نے آپ کو برہنہ دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۳؎تو حضور نے انہیں گلے لگالیا انہیں چوما۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کسی سفر سے آئے یا کسی جہاد سے عرصہ تک غائب رہنے کے بعد حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم سے شرف ملاقات سے مشرف ہوئے اس دن حضور کی باری میرے گھر تھی یہ واقعہ میرے گھر میں درپیش ہوا جسے میں نے اپنی آنکھوں دیکھا۔
۲
؎یعنی حضور انور نے چادر اوڑھنے یا قمیض پہننے کا توقف نہ کیا بلکہ قمیض پہنتے ہوئے چادر اوڑھتے ہوئے ہی ان کی طرف بڑھے،برہنہ کے یہ ہی معنی ہیں یعنی بے چادر یا بغیر قمیض ورنہ حضور انور کا ستر کسی بیوی صاحبہ نے بھی کبھی نہ دیکھا۔ (مرقات و اشعہ)۳؎معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور دولت خانہ میں بھی بغیر قمیض کبھی کسی کے سامنے نہ ہوئے،اس شرم و حیاء پر قربان یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس طرح بغیر قمیض کسی سے ملتے نہ دیکھا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۴
؎اس میں حضرت زید ابن حارثہ کی انتہائی محبوبیت کا اظہار ہے آپ کو حضور نے اپنا بیٹا بنایا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے لہذا عید کے معانقہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4682