Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3424

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللّٰهُ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ.

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فلا حنث عليه". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي، وذكر الترمذي جماعة وقفوه على ابن عمر.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی چیز پر قسم کھائے ۱؎فورًا کہہ دےΑان شاءاﷲتو اس پر حنث نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ،دارمی) اور ترمذی نے ایک جماعت کا ذکر فرمایا جنہوں نے یہ حدیث ابن عمر پر موقوف کی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یمین سے مراد وہ واقعہ ہے جس پر قسم کھائی جائے ورنہ قسم پر قسم نہیں ہوتی،حلف قسم ہے وہ یمین پر کیسے واقعہ ہوگا۔
۲
؎یعنی قسم سے متصل کہہ دےΑان شاءاﷲاسی لیے ف ارشاد ہوئی۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر وعدے یا قسم سے متصلΑان شاءاﷲکہہ دیا جائے تو اس کے خلاف کرنے پر نہ گناہ ہے نہ کفارہ،موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے فرمایا"سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللہُ صَابِرًا" مگر بعد میں آپ صبر نہ کرسکے تو یہ وعدہ خلافی نہ ہوا،اکثر علماء کا یہ ہی قول ہے کہΑان شاءاﷲمتصل کہہ دینے سے قسم ختم ہوجاتی ہے، طلاق،عتاق،نکاح کا یہ ہی حال ہے کہ اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق ہےΑان شاءاﷲیا میں نے نکاح قبول کیاΑان شاءاﷲ، یا اے غلام تو آزاد ہےΑان شاءاﷲ،کچھ نہ ہوا نہ طلاق نہ نکاح نہ آزادی۔
۳
؎لیکن ایسا موقوف مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ قیاسی مسئلہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3424