Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3422

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: "لَا، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِم بِيَدِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اجتهد في اليمين قال: "لا، والذي نفس أبي القاسم بيده". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم قسم میں مبالغہ فرماتے تو یوں فرماتے اس کی قسم،جس کے قبضہ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںΑلایا تو زائدہ ہے جیسے قرآن کریم میں ہے"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ"یا "لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"یا گزشتہ کسی کلام کی نفی ہے یعنی ایسا نہیں ہوا قسم ہے اس رب کی الخ پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں،اسی معنے پر ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ قسم نہایت مبالغہ کی ہے کیونکہ رب تعالٰی کی انتہائی قدرت و قبضہ کا بھی ذکر ہے اور اپنی ذات کریمہ کے مقبوض و مقدور ہونے کا بھی تذکرہ یعنی ہم اس کی قسم فرماتے ہیں جس کا ہم پر پورا پورا قبضہ ہے اور ہم جس کے قبضہ وتصرف میں ہمیشہ اور ہر طرح ہیں، اس عظمت پر خیال رکھتے ہوئے یہ قسم فرمارہے ہیں چونکہ حضور خود تمام مخلوق الٰہی میں اشرف و برتر ہیں اس لیے یہ قسم بھی بہت اشرف و برتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3422