Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3409

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى؛ فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ". مُتَفَقٌ عَلَيهِ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من حلف فقال في حلفه: باللات والعزى؛ فليقل: لا إله إلا الله ومن قال لصاحبه: تعال أقامرك فليتصدق". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ جو قسم کھائے اپنی قسم میں کہدے کہ لات و عزیٰ کی قسم تو کہے کہ نہیں ہے کوئی معبود اکے سو ا؎اور جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں تو وہ خیرات کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر بھول کر لات و عزیٰ کی قسم کھالے تو کفارہ کے لیے کلمہ طیبہ پڑھ لے کہ نیکیاں گناہ کو مٹا دیتی ہے اور اگر دیدہ دانستہ بتوں کی تعظیم کرتے ہوئے ان کی قسم کھائی ہے تو کافر ہوگیا،دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو۔لات و عزیٰ مکہ والوں کے دو مشہور بت تھے جو کعبہ معظمہ میں رکھے ہوئے تھے اب جو گنگا جمنا یا رام لچھمن کی قسم کھائے اس کا حکم بھی یہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس جیسی قسم میں کفارہ نہیں صرف یہ ہی حکم ہے جو یہاں مذکور ہوا۔
۲
؎یعنی جوا کھیلنا تو درکنار اگر کسی کو جوا کھیلنے کی دعوت بھی دے تو وہ جوئے کا مال جس سے جوا کھیلنا چاہتا ہے وہ یا دوسرا مال صدقہ کردے تاکہ اس ارادہ کا یہ کفارہ ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ ارادہ گناہ بھی گناہ ہے،یہ ہی مذہب جمہور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3409