Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3421

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الإِسْلَامِ؛ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الإِسْلَامِ سَالِمًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من قال: إني بريء من الإسلام؛ فإن كان كاذبا فهو كما قال، وإن كان صادقا فلن يرجع إلى الإسلام سالما". رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کہے میں اسلام سے بری ہوں تو اگر وہ جھوٹا ہو ۱؎تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ۲؎اور اگر سچا ہو تو اسلام کی طرف سلامت نہ پھرے گا۳؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یوں کہے کہ اگر میں نے یہ کیا ہو تو میں اسلام سے بری و دور ہوجاؤں گا اور وہ جانتا ہے کہ اس نے یہ کام کیا اس وقت جھوٹ بول رہاہے۔
۲
؎یعنی اسلام سے بری دور ہو ہی جائے گا،یہ فرمان انتہائی ڈرانے کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا جو نماز چھوڑے اس نے کفرکیا۔مطلب یہ ہے کہ اس قسم میں اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ اگر گزشتہ پر یہ قسم کھائی ہے تو صرف گناہ ہوگا کفارہ نہ ہوگا کیونکہ غموس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا۔ اگر آئندہ پر یہ الفاظ بولے کہ اگر میں یہ کام کروں تو اسلام سے بیزار و بری ہوجاؤں اگر حلال کو حرام کرنے کے لیے کہا ہے تو قسم ہوجائے گی کہ تحریم حلال قسم ہے۔
۳
؎یعنی اگر اپنے کو سچا سمجھ کر یہ کلمات کہے اور واقعہ تھا وہ جھوٹا تب بھی اس نے بڑا گناہ کیا مثلًا اس نے کہا کہ اگر میں نے فلاں سے بات کی ہو تو میں اسلام سے دور ہوجاؤں اسے خیال تھا کہ میں نے بات نہیں کی مگر کی تھی،تب بھی اس کلمہ میں گناہ ہے کہ اس نے اسلام کو معمولی دیکھا سمجھا، یہ ہی حکم ہے یہ کہنے کا میں نماز و روزہ حج زکوۃ سے بری ہوں، کیونکہ اسلامی احکام کو ہلکا جاننا بات بات پر ان سے بیزاری کا اظہار کرنا بڑا ہی خطرناک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3421