Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3420

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ حَلَفَ بِالأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من حلف بالأمانة فليس منا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اگر امانت سے مراد شرعی احکام ہیں یعنی نماز روزہ وغیرہ تو یہ قسم ناجائز ہے اور اس میں کفارہ نہیں، قرآن کریم میں شرعی احکام کو امانت فرمایا گیا ہے"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"یہ قسمیں کفار کھاتے تھے نماز کی قسم وغیرہ،اور اگر مراد امانت اہے تو قسم معتبر ہے اس پر کفارہ واجب کہ امانت اکی صفت ہے اور صفات الٰہی کی قسم معتبر ہے جیسے اکے علم یا قدرت یا سمع بصر کی قسم، رب تعالٰی کا نام شریف امین بھی ہے۔(مرقات،واشعہ)خیال رہے کہ جو کہےΑبسم اﷲمیں یہ کروں گا اگرچہ قسم ہی کی نیت سے کہے قسم نہ ہوگی کہ یہ عرف کے خلاف ہے ایسے ہی حق اکی قسم معتبر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3420