Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3417

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: لَا وَاللّٰهِ، وَبَلَى وَاللّٰهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" لَفْظُ "الْمَصَابِيحِ" وَقَالَ: رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَائِشَةَ.

وعن عائشة قالت: أنزلت هذه الآية: لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم في قول الرجل: لا والله، وبلى والله رواه البخاري، وفي "شرح السنة" لفظ "المصابيح" وقال: رفعه بعضهم عن عائشة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نازل ہوئی یہ آیت کہ اتعالٰی تمہاری پکڑ نہیں فرماتا،تمہاری لغو قسموں پر انسان کے اس قول کے متعلق نہیں، واہاں وا۱؎(بخاری)اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۲؎اور فرمایا کہ بعض راویوں نے اسے حضرت عائشہ سے مرفوع کیا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎قسم لغو وہ ہے جس میں نہ کفارہ ہو نہ گناہ،لغو بمعنے بے کار، قسم لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔امام شافعی کے ہاں قسم لغو یہ ہے کہ بغیر ارادہ منہ وابانکل جائے جیسے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے واآئے واجائے وغیرہ،یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اعلیہ کی دلیل ہے،ہمارے امام اعظم کے نزدیک قسم لغو یہ ہے کہ کسی بات پر اسے سچ سمجھ کر قسم کھائے مگر وہ ہو جھوٹ جیسے کسی کو زید کے آجانے کایقین تھا وہ کہے قسم خدا کی زید آگیا لیکن وہ آیا نہ تھا،یہ قسم لغو ہے حضرت عبداابن عباس نے قسم لغو کی یہ ہی تفسیر فرمائی امام اعظم و امام احمد کا یہ ہی مذہب ہے لہذا ہمارے ہاں اگر بغیر قصد قسم نکل جانے پر قسم کے احکام جاری ہوں گے مثلًا عادت کے طور پر کہہ دے وامیں جاؤں گا واکھاؤں گا اگر نہ جائے نہ کھائے تو کفارہ واجب ہوگا اگرچہ قسم کی نیت سے وانہ کہا ہو،نذر کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ بغیر قصد نذر کے الفاظ جاری ہونے سے نذر ہوجاتی ہے کیونکہ بعض احادیث میں ہے کہ تین چیزیں عمدًا ہوں تب بھی درست ہیں خطاء یا بھول کر ہوں جب بھی درست،نکاح،طلاق اور قسم۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ میری امت سے خطاء و نسیان اٹھالیے گئے تو خطاء کی قسم پر احکام کیسے ؟ مگر یہ کمزور سی بات ہے کیونکہ خطاء ونسیان پر سزا اٹھالی گئی نہ کہ احکام پر ، روزے میں خطاء پانی پی لینے سے روزہ جاتا رہتا ہے اگرچہ اس پر گناہ نہیں ایسے خطاء قسم پر گناہ نہیں احکام مرتب ہیں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور مرقات میں اسی جگہ دیکھئے۔
۲
؎یعنی شرح سنہ میں اس حدیث کے وہ الفاظ منقول ہیں جو مصابیح میں نقل فرمائے، وہ یہ ہیںΑقالت لغو الیمین قول الھمان لا واﷲ وبلی واﷲ۔(اشعہ)
۳
؎یعنی امام بغوی نے شرح سنہ میں فرمایا کہ بعض محدثین نے یہ حدیث عائشہ مرفوعًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نقل فرمائی۔خیال رہے کہ مجبور کی قسم ہمارے ہاں معتبر ہے اس پر احکام جاری ہیں،امام شافعی و احمد کے ہاں معتبر نہیں،ان کی دلیل دار قطنی کی وہ حدیث ہے جو واثلہ ابن اسقع وابی امامہ سے منقول ہےΑلیس علی مقہور یمینمگر یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3417