Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3407

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲتعالٰی تم کو اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ۱؎جو قسم کھانا چاہے تو اﷲکی قسم کھائے یا خاموش رہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی غیر خدا کی قسم کھانے سے منع فرمایا گیا،چونکہ اہل عرب عمومًا باپ دادوں کی قسم کھاتے تھے اس لیے اسی کا ذکر ہوا،غیر خدا کی قسم کھانا مکروہ ہے،وہ جو حدیث شریف میں ہےافلح و ابییعنی قسم میرے والد کی وہ کامیاب ہوگیا وہ قسم شرعی نہیں محض تاکید کلام کے لیے ہے اور یہاں شرعی قسم سے ممانعت ہے یا وہ حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے یا وہ بیان جواز کے لیے ہے یہ حدیث بیان کراہت کے لیے۔(مرقات)
۲
؎اﷲسے مراد رب تعالٰی کے ذاتی و صفاتی نام ہیں لہذا قرآن شریف کی قسم کھانا جائز ہے کہ قرآن شریف کلام اﷲکا نام ہے اور کلام اﷲصفت الٰہی ہے،قرآن مجید میں زمانہ، انجیر،زیتون وغیرہ کی قسمیں ارشاد ہوئیں وہ شرعی قسمیں نہیں نیز یہ احکام ہم پر جاری ہیں نہ کہ رب تعالٰی پر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3407