Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3414

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "وَاللّٰهِ لأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللّٰهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "والله لأن يلج أحدكم بيمينه في أهله آثم له عند الله من أن يعطي كفارته التي افترض الله عليه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ بات کہ اڑا رہے تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اپنے گھر والوں کے متعلق ۱؎زیادہ گناہ ہے اکے نزدیک اس سے کہ اس کا کفارہ ادا کردے جو انے اس پر فرض کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ΑیلجΑیکے فتح لام کے کسرہ اور جیم کے شد سےΑلجاءٌ ولجاجۃکا مضارعΑضربΑیضربسےΑلجاجہکے معنے ہیں اڑ جانا،مصر ہوجانا،قائم رہنا یعنی جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کا حق فوت کرنے پر قسم کھالے مثلًا یہ کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں گا یا بیوی سے ایک دو ماہ صحبت نہ کروں گا۔
۲
؎یعنی ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے اس پر واجب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حقوق اد اکرے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمٰنِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصْلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ"۔خیال رہے کہ یہاںΑاٰثمتفضیل مقابلہ کے لیے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ مگر پوری کرنا زیادہ گناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بہت بڑا گناہ ہے پوری نہ کرنا ثواب کہ اگرچہ رب تعالٰی کے نام کی بے ادبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کا موجب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3414