Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3410

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ عيْرِ الإِسْلَامِ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فیمالَا يَمْلِكُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَن لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كقَتْلِهِ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللّٰهُ إِلَّا قِلَّةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ثابت بن الضحاك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من حلف على ملة عير الإسلام كاذبا، فهو كما قال وليس على ابن آدم نذر فیمالا يملك، ومن قتل نفسه بشيء في الدنيا عذب به يوم القيامة، ومن لعن مؤمنا فهو كقتله، ومن قذف مؤمنا بكفر فهو كقتله، ومن ادعى دعوى كاذبة ليتكثر بها، لم يزده الله إلا قلة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جو اسلام کے سوا کسی دین پر جھوٹی قسم کھائے ۲؎تو وہ ایسا ہے جیسا کہے ۳؎اور کسی انسان پر اپنی غیر مملوک میں نذر نہیں ۴؎اور جو کسی چیز سے اپنے کو قتل کرے دنیا میں تو اسے اسی چیز سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ۵؎اور جوکسی مسلمان پر لعنت کرے تو وہ اس کے قتل کی طرح ہے ۶؎اور جو کسی مسلمان کو کفر کی تہمت لگائے تو وہ اس کے قتل کی طرح ہے ۷؎اور جو جھوٹا دعوی کرے تاکہ اس سے مال بڑھائے تو انہ بڑھائے گا مگر کمی ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ابویزید انصاری خزرجی ہیں،بیعۃ الرضوان میں حاضر تھے بہت کم سن تھے مدنی ہیں،بصرہ میں قیام رہا، ۷۰ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی۔
۲
؎مثلًا کہے کہ اگر میں یہ کام کروں تو عیسائی یہودی ہوجاؤں یا اسلام سے نکل جاؤں اور پھر وہ کام نہ کرے یا کہے کہ اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو یہودی ہوجاؤں حالانکہ اس نے یہ کام کیا تھا۔
۳
؎یعنی وہ عملًا یہودی ہی ہوگیایا اسلام سے بری ہوگیا یہ فرمان تشدد کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا کہ جو عمدًا نماز چھوڑے وہ کافر ہوگیا،ایسی قسم میں امام ابوحنیفہ،احمد و اسحاق کے ہاں قسم منعقد ہوجائے گی کفارہ واجب ہوگا اور امام شافعی کے ہاں کفارہ بھی نہیں صرف گناہ ہے کہ یہ قسم نہیں صرف جھوٹ ہے ۔یہ اختلاف جب ہے جبکہ یہ الفاظ آئندہ کے متعلق بولے مثلًا کہے کہ اگر میں فلاں سے کلام کروں تو یہودی ہوجاؤں یا اسلام سے بری ہوجاؤں لیکن اگر یہ الفاظ گزشتہ کے متعلق بولے تو کسی کے ہاں کفارہ نہیں سب کے ہاں گناہ ہی ہے مثلا ً کہے کہ اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو میں یہودی یا عیسائی ہوں اور واقعہ میں وہ کام کیا تھا تو گنہگار ہے۔
۵
؎مثلًا کہے کہ اگر میرے بیمار کو شفا ہوجائے تو فلاں کی بکری کو قربانی دے دوں گا یا فلاں کا غلام آزاد ہے،اس صورت میں نہ اس بکری کی قربانی واجب ہے نہ وہ غلام آزاد ہوگا کیونکہ بروقت نذر نہ بکری اس کی ملک تھی نہ وہ غلام،پھر اگر یہ چیزیں بعدمیں اس کی ملک میں آ بھی جائیں تب بھی یہ نذر پوری نہ کرے کہ نذر درست ہوئی ہی نہیں۔
۵
؎مثلًا کوئی اپنے کو چھری سے ذبح کرلے تو کل قیامت میں چھری اس کے ہاتھ میں ہوگی جسے وہ اپنے میں گھونپتا ہوگا جب تک رب تعالٰی چاہے یہ ہوتا رہے گا اس گھونپنے میں تکلیف پوری ہوگی مگر جان نہ نکلے گی جیسا کہ دوسری روایات میں ہے۔
۶
؎یعنی جو شخص لعنت کے لائق نہ ہو اسے لعنت کرے تو اس لعنت کا عذاب قتل کا سا ہے معلوم ہوا کہ غیر مستحق پر لعنت ناحق قتل کی طرح حرام ہے۔
۷
؎کیونکہ کفرو ارتداد قتل کے اسباب سے ہیں کسی کو بلاوجہ کافر یا مرتد کہنا گویا اسے لائق قتل کہنا ہے۔خیال رہے کہ قذف کے لغوی معنے ہیں پھینکنا،اصطلاح شریعت میں زنا کی تہمت لگانے کو قذف کہا جاتا ہے۔
۸
؎یعنی جو اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں کے مال پر جھوٹے دعویٰ کرے اس کا مالان شاءاﷲگھٹے گا بڑھے گا نہیں کیونکہ حقیر غرض کے لیے اتنا بڑا گناہ کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3410