Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3412

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ! لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" وَفِي رِوَايَةٍ: "فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الرحمن بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا عبد الرحمن بن سمرة! لا تسأل الإمارة، فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها، وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها، وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وأت الذي هو خير" وفي رواية: "فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اے عبدالرحمن ابن سمرہ امیر ہونا نہ مانگو ۱؎کیونکہ اگر تمہیں حکومت مانگ کردی گئی تو تم اس کی طرف سپرد کردیئے جاؤ گے ۲؎اور اگر بغیر مانگے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۳؎اور جب تم کسی چیز پر قسم کھالو پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے لو اور جو بہتر ہے وہ کرلو۴؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو اچھا ہے وہ کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے لو۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حکومت و سرداری کی خواہش نہ کرو نہ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو،آج کل تو ممبری وزارت حاصل کرنے ووٹ لینے کی جو کوشش ہوتی ہے سب کو معلوم ہے کہ دونوں کے لیے دین ایمان دولت عزت سب کچھ قربان کردیتے ہیں اس کاانجام بھی آنکھوں دیکھاجارہا ہے سارے فسادات ان حکومتوں کے ہیں جو یہ کوشش حاصل کی جاتی ہیں۔
۲
؎یعنی حکومت کی ذمہ داریاں بہت ہیں ہر شخص ان کو پورا نہیں کرسکتا اتعالٰی ہی مدد کرے تو بندہ اس میں کامیاب ہوسکتا ہے لیکن جو کوئی اپنی کوشش سے حکومت لے گا وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا اتعالٰی اس کی مدد نہ کرے گا،یہ حکم اس صورت میں ہے کہ انسان نفسانی خواہش عیش دولت عزت شہرت حاصل کرنے کے لیے حکومت چاہے لیکن اگر نظام حکومت نااہلوں کے پاس جاکر ملک کے فساد کا اندیشہ ہو تو اکے دین اور مخلوق کی خدمت کے لیے حکومت حاصل کرنا عبادت ہے جب کہ اپنی نفسانی خواہش کو اس میں دخل نہ ہو۔حضرت یوسف علیہ السلام نے شاہ مصر سے فرمایا تھا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"مجھے خزانوں کا حاکم بنا دو، اگر آپ اس وقت یہ عہدہ نہ سنبھالتے تو اس قحط سالی میں لوگ بھوکے مرجاتے۔
۳
؎یعنی اس صورت میں اتعالٰی بذریعہ فرشتے کے تمہاری مدد فرمائے گا کہ اس کا فرشتہ تمہارا مشیر رہے گا تمہیں سنبھالے رہے گا۔
۴
؎جو شخص گناہ کرنے یا فرائض ادا نہ کرنے کی قسم کھالے مثلًا خدا کی قسم میں شراب پیوں گا یا نماز نہ پڑھوں گا تو ایسی قسم کا توڑنا اور کفارہ ادا کردینا واجب ہے اور جو غیرمناسب کام کی قسم کھالے مثلًا خدا کی قسم میں ایک ماہ تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کروں گا ایسی قسم کا توڑ دینا مستحب ہے،اور جائز کاموں کی قسموں کا پورا نہ کرنا ضروری ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمٰنَکُمْ"جیسے قسم رب کی میں یہ روٹی نہ کھاؤں گا،یہ کپڑا نہ پہنوں گا۔
۵
؎مگر ہر قسم کی قسم توڑنے میں کفارہ واجب ہے کیونکہ قسم تو اتعالٰی کے نام کی حرمت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس نے رب کو ضامن دے کر ایک وعدہ کیا مگر پورا نہ کیا نام پاک کی اس میں بے حرمتی کی تو کفارہ دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3412