Main Icon

قسموں اورمنتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3418

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللّٰهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تحلفوا بآبائكم، ولا بأمهاتكم، ولا بالأنداد، ولا تحلفوا بالله إلا وأنتم صادقون". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنی ماؤں کی اور نہ بتوں کی ۱؎اور اکی قسم نہ کھاؤ مگر جب کہ تم سچے ہو ۲؎( ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نہ اپنے اصول کی قسم کھاؤ جن کی اولاد میں تم ہو اور نہ فروع کی قسم کھاؤ جو تمہاری اولاد میں ہیں بیٹے پوتے نواسے وغیرہ،نہ مال وغیرہ کی قسم کھاؤ اور نہ بتوں کی قسم کھاؤ جیسا کہ مشرین کا طریقہ ہے،Αاندادجمع ہےΑندکی بمعنی مقابل۔
۲
؎یعنی اتعالٰی کی ذات و صفات کی قسم کھانا جائز ہے مگر سچی قسم،جھوٹی قسم کھانا حرام ہے،جس پر گناہ یا کفارہ واجب ہے، یہ شرعی قسم کے احکام ہیں،لغوی قسم بمعنی تاکید کلام،یہ ماں باپ اولاد وغیرہ کی بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہواΑافلح و ابیقرآن کریم میں جو قسمیں ارشاد ہوئیں وہ لغوی قسم کی ہیں،بتوں کی قسم نہ لغوی جائز ہے نہ شرعی کہ اس میں ان کی تعظیم ہے اور بت کی تعظیم حرا م بلکہ کفر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3418