Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 905

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهٗ بِالْأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَی الذِي وَضَعَ عَلَيْهِ جَبْهَتَهٗ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن نافع أن ابن عمر كان يقول: من وضع جبهته بالأرض فليضع كفيه علی الذي وضع عليه جبهته ثم إذا رفع فليرفعهما فإن اليدين تسجدان كما يسجد الوجه. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو اپنی پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی وہیں رکھے جہاں پیشانی رکھتا ہے ۱؎پھر جب سر اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے کیونکہ جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے ویسے ہی ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہاتھ پیشانی کے آس پاس چاہیں نہ کہ کندھوں کے متصل،نیز پیشانی کے لیے کوئی خاص چیز نہ ہو جس پر پیشانی رکھی جائے اسی پر ہاتھ بھی رکھے جائیں،بعض لوگ کربلا کی مٹی یا کاغذ یا پتے پرصرف پیشانی رکھتے ہیں ان کا یہ عمل اس حدیث کے خلاف ہے۔پیشانی اور ہاتھوں کی جگہ ایک ہونی چاہیے۔
۲
؎لہذا ہاتھوں کی انگلیوں قبلہ کی طرف چاہیں اور یہ نہ کرے کہ سجدے سے صرف سر اٹھائے،ہاتھ زمین پر ہی لگے رہنے دے کہ یہ تعدیل ارکان کے خلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 905