Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 899

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُوَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَالدَارمِيْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَثْبَتُ مِنْ هٰذَا وَقِيلَ: هٰذَا مَنْسُوْخٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعيروليضع يديه قبل ركبتيه» . رواه أبو داود والنسائي. والدارمي قال أبو سليمان الخطابي: حديث وائل بن حجر أثبت من هذا وقيل: هذا منسوخ

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے ۱؎چاہیے کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلےرکھے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی،دارمی) ابوسلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ وائل ابن حجر کی حدیث اس سے زیادہ قوی ہے ۳؎اورکہا گیاہے کہ یہ منسوخ ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎کہ اونٹ بیٹھتے وقت پہلے پاؤں کے گھٹنے زمین پر لگاتاہے، پھر ہاتھ بچھاتاہے تم ایسا نہ کرو۔
۲
؎یہ حدیث گزشتہ حدیث وائل ابن حجر کے خلاف ہے یا یہ حدیث منسوخ ہے،حدیث وائل ناسخ یا یہ حدیث ضعیف ہے اور وہ حدیث قوی۔غرض کہ یہ حدیث ناقابل عمل ہے اورگزشتہ حدیث پر اکثر آئمہ کا عمل ہے جیسا خود صاحب مشکوٰۃ فرما رہے ہیں۔
۳
؎اسی لیے علماءنے اس پرعمل کیا،بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث وائل کی اسناد میں شریک قاضی ہے اور وہ ضعیف ہے مگریہ غلط ہے کیونکہ امام مسلم نے شریک سے روایات لیں ہیں،نیز اس حدیث کی دو اسنادیں اور بھی ہیں جن سے انہیں قوت پہنچتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 899