Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 890

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَيْمُونَة قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافٰى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتّٰى لَوْ أَنَّ بُهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ. هٰذَا لَفْظُ أبي دَاوُدَ كَمَا صَرَّحَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِإِسْنَادِهٖ وَلِمُسْلِمٍ بِمَعْنَاهُ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْشَاءَتْ بُهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ

وعن ميمونة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سجد جافى بين يديه حتى لو أن بهمة أرادت أن تمر تحت يديه مرت. هذا لفظ أبي داود كما صرح في شرح السنة بإسناده ولمسلم بمعناه: قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سجد لوشاءت بهمة أن تمر بين يديه لمرت

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ رکھتے حتّٰی کہ اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سےگزرنا چاہتا توگزرجاتا ۱؎یہ ابوداؤد کے لفظ ہیں جیسے شرح سنہ میں ہے مع اسناد تصریح کی گئی ہے۲؎اورمسلم میں اس کے معنی ہیں فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے درمیان گزرنا چاہتا توگزرجاتا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنے ہاتھ اپنی پسلیوں سے اتنے دور رکھتے کہ اس درمیان والی جگہ سے بکری کا بچہ گزر سکے۔اس کی تشریح کچھ آگے آئے گی۔
۲
؎یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ وہ فصل اول میں مسلم،بخاری کے علاوہ اور کتاب کی حدیث لائے،مسلم کی عبارت یہ نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو آگے آرہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 890