Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 894

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهٖ وَهُوَ سَاجِد ٌفَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا الدعاء» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب سجدہ کرتے ہوئے ہوتا ہے تو اس میں دعائیں زیادہ مانگو ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رب تو ہم سے ہروقت قریب ہے ہم اس سے دور رہتے ہیں،البتہ سجدے کی حالت میں ہمیں اس سے خصوصی قرب نصیب ہوتا ہے لہذا اس قرب کو غنیمت سمجھ کر جو مانگ سکیں مانگ لیں۔اس حدیث میں ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں سجدہ قیام سے افصل ہے۔خیال رہے کہ نوافل کے سجدوں میں ہمیشہ دعامانگے،فرائض کے سجدوں میں کبھی کبھی،بعض لوگ سجدے میں گرکر دعائیں مانگتے ہیں یعنی دعا کے لیے سجدہ کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 894