Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 891

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُجَيْنَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتّٰى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبطَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مالك بن بجينة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سجد فرج بين يديه حتى يبدو بياض إبطيه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مالک ابن بجینہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان کشادگی فرماتےحتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بجینہ عبد الله کی والدہ کا نام ہے یعنی بجینہ مالک کی بیوی ہیں اسی لیے محدثین مالک کو تنوین سے پڑھتے ہیں اور ابن بجینہ اس سے علیحدہ کرتے ہیں بلکہ ان کا نام عبد الله ا بن بجینہ مشہورہے اور آپ صحابی ہیں،۵۴ یا ۵۵ ہجری میں امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲
؎اس طرح کہ چادر اوڑھے نماز پڑھتے تو چادر کچھ سرک جاتی اور بغل نظر آجاتی اور اگر قمیض میں نماز پڑھتے تو بغل کی سفیدی کی جگہ نظر آجاتی اس طرح کہ اگر کپڑانہ ہوتا تو بغل دیکھ لی جاتی۔لفظبیاضسے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی بغل شریف مثل باقی جسم شریف کے سفیدتھی،بعض نے فرمایا کہ وہاں بال بھی نہ تھے،بغل سے نہایت خوشبو نکلتی تھی،یہ آپ کی خصوصیات سے ہے۔(ازمرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 891