Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 895

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ وَيَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَتیٰ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان ويبكي يقول: يا ويلتی أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة وأمرت بالسجود فأبيت فلي النار . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا پھرتا ہے ۱؎اورکہتاہے ہائے افسوس انسان کو سجدے کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کے لیے تو جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا میں انکاری ہوگیا میرے لیے آگ ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انسان کے لیے سجدۂ تلاوت کو دیکھ کر شیطان حسرت کرتا ہوا وہاں سے بھاگتا ہے،چونکہ یہ سجدہ سجدۂ نماز کے علاوہ ہے اور شیطان نے جس سجدہ کا انکار کیا تھا وہ بھی سجدہ نماز کے علاوہ تھا اس لیے اسے یہ سجدہ دیکھ کر حسرت ہوتی ہے نہ کہ سجدہ نماز دیکھ کر کیونکہ نماز کے سجدے تو خودبھی کرتا رہا ہے۔
۲
؎اس سےمعلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے جیساکہ حنفیوں کا مذہب ہے اگرچہ وہ سجدہ آدم علیہ السلام کو تھا(سجدۂ تعظیمی)اور یہ سجدہ الله کو ہے(سجدۂ عبادت)مگر چونکہ اس سجدہ کا حکم بھی الٰہی تھا اور اس سجدے کا بھی اس لیے شیطان یہ کہتا ہے۔اس سجدۂ تعظیمی کی بحث ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد اول میں دیکھو۔معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اپنی حرکت پر پچھتاتا تو رہا ہے مگر اب کیا ہوتا وقت نکل چکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 895