Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 893

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهٗ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلیٰ بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلیٰ نَفْسِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته فوقعت يدي علی بطن قدميه وهو في المسجد وهما منصوبتان وهو يقول: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت علی نفسك» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو بستر سے گم پایا ۱؎میں نے ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپ کےتلوؤں پر پڑاحالانکہ آپ مسجد میں تھے اورتلوےکھڑے ہوئے تھے ۲؎اور آپ کہہ رہے تھےمولا میں تیری رضا کی تیری ناراضگی سے اور تیری معافی کی تیری سزا سے پناہ لیتا ہوں۳؎میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا تو ویسا ہی ہے جیسےتو نےخود اپنی تعریف کی۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میرے ہاں قیام کی باری تھی،رات اندھیری تھی گھر میں چراغ نہ تھا،میری آنکھ کھلی تو مجھے آپ کا بستر شریف خالی محسوس ہوا تو میں گھبرا گئی کہ مجھے اطلاع دیئے بغیر کہاں تشریف لے گئے۔
۲
؎یعنی سجدے میں گرکر دعائیں مانگ رہے تھے،مسجد نبوی چونکہ حضرت عائشہ کے حجرے سے بالکل ملی ہوئی تھی،اسی طرف دروازہ تھا اس لیے آپ کا ہاتھ اپنے بستر پر بیٹھے بیٹھے مسجدمیں پہنچ گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو چھونا وضو نہیں توڑتا کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نماز تہجد کے سجدے میں ہیں اور بغیر آڑ کے ام المؤمنین کا ہاتھ آپ کے تلوؤں شریف کو لگا اور حضورصلی الله علیہ وسلم نے نماز نہ چھوڑی،نہ وضو دوبارہ کیا۔ان انگلیوں کے قربان جو حضورصلی الله علیہ وسلم کے تلوؤں سےلگیں،نصیب والے کما کر چلےگئے۔شعر
جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کیا کریں نصیب میں تو یہ نا مرادی کے دن لکھے تھے
۳
؎یعنی اگر تو عتاب فرمائے تو تیرے ہی کرم میں پناہ مل سکتی ہے اور کہیں بلاتشبیہ یوں سمجھو کہ جب بچے کو ماں مارتی ہے اور پرےکرتی ہے تو بچہ ماں ہی سے لپٹتاہے کیونکہ اس کی آخری پناہ وہی ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی پناہ میں آنا اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا آستانہ رب کا آستانہ ہے،خود فرماتے ہیں"اَنَا فِئَۃُ الِمُسْلِمیْنَ"میں مسلمانوں کی پناہ ہوں،رب فر ماتا ہے:"جَآءُوۡکَ"الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 893