Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 897

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰى رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهٗ يُدْخِلُنِي اللهُ بِهٖ الْجَنَّةَ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهٗ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذٰلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلّٰهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» . قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهٗ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن معدان بن طلحة قال: لقيت ثوبان مولى رسول
الله صلى الله عليه وسلم فقلت: أخبرني بعمل أعمله يدخلني الله به الجنة فسكت ثم سألته فسكت ثم سألته الثالثة فقال: سألت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «عليك بكثرة السجود لله فإنك لا تسجد لله سجدة إلا رفعك الله بها درجة وحط عنك بها خطيئة» . قال معدان: ثم لقيت أبا الدرداء فسألته فقال لي مثل ما قال لي ثوبان. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جو میں کروں تو الله مجھے اس کی برکت سے جنت میں داخل کردے آپ خاموش رہے میں نے پھر پوچھا آپ خاموش رہے میں نے پھرتیسری بار پوچھا تو فرمایا کہ میں نے اس بارے میں حضورصلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تھا۲؎آپ نے فرمایا کہ الله کے لیئے زیادہ سجدے اختیارکرو۳؎کیونکہ تم الله کے لیےکوئی سجدہ نہ کرو گے مگر الله اس کی برکت سے تمہارا درجہ بڑھائے گا اورتمہاری خطا معاف کرے گا۔معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابو درداء سے ملا ان سے پوچھا انہوں نے مجھ سے وہی کہا جو ثوبان نے کہا تھا۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،شام کے رہنے والے ہیں،عالم باعمل ہیں،حضرت عمر،ابوالدرداء اور ثوبان رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں۔
۲
؎یعنی میں نے بھی حضورصلی الله علیہ وسلم سے تین بار یہ سوال کیا تھا دو بارسرکار خاموش رہے تھے اور تیسری بار میں جواب دیا تھا۔(مرقات)اسی سنت پرعمل کرتے ہوئے میں بھی دوبار خاموش رہا۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ خاموشی سائل کا شوق بڑھانے کے لیے اور حضرت ثوبان کی خاموشی اس سنت پر عمل کے لیے ہے،صحابہ کرام حضور صلی الله علیہ وسلم کی اداؤں کی نقل کرتے تھے۔
۳
؎اس طرح کہ نوافل زیادہ پڑھو اور تلاوت قرآن کثرت سے کرو،سجدۂ شکر زیادہ کرو۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ گناہوں کاکفارہ ہے مگر گناہوں سے مرادحقوق الله کے گناہ صغیرہ ہیں،حقوق العباد ادا کرنے سے اور گناہ کبیرتوبہ سے معاف ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 897