Main Icon

باب:سجدہ اوراس کی بزرگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 903

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهٗ لَكَ مَا أَكْرَهٗ لِنَفْسِي لَا تُقْعِ بَينَ السَّجْدَتَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا علي إني أحب لك ما أحب لنفسي وأكره لك ما أكره لنفسي لا تقع بين السجدتين» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ اے علی میں تمہارے لیے وہی پسندکرتا ہوں جو اپنے لیے پسندکرتا ہوں اور تمہارے لیے وہی ناپسندکرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسندکرتا ہوں ۱؎دوسجدوں کے درمیان اکڑوں نہ بیٹھنا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ کی انتہائی عظمت کا اظہارہے ورنہ نبی صلی الله علیہ وسلم ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"اور فرماتا ہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔حضور نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسندکرتے ہو۔
۲
؎لَا تُقِعْ اِقْعَاءٌسے بنا جس کے معنی ہیں سرین زمین پر رکھنا دونوں پنڈلیاں کھڑی کرلینا اور ہاتھ زمین سے لگادینا یعنی اکڑوں بیٹھنا یہ نماز میں منع ہے نمازی جب بھی بیٹھے دو زانو بیٹھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 903