Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5067

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الاقتصاد في النفقة نصف المعيشة والتودد إلى الناس نصف العقل وحسن السؤال نصف العلم روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے ۱∞؎اور لوگوں سے محبت کرنا آدھی عقل ہے ۲؎اور اچھا سوال آدھا علم ہے۳؎ان چاروں حدیثوں کوبیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!عجیب فرمان عالی ہے۔خوش حالی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے: کمانا،خرچ کرنا مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بہت ہی کمال ہے،کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے،جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہان شاءاللهہمیشہ خوش رہے گا یہاںمعیشۃمصدر ہے بمعنی عیش کی زندگانی۔
۲
؎یعنی عقل کے سارے کام ایک طرف ہیں اور لوگوں سے محبت کرکے انہیں اپنا بنالینا ایک طرف لوگوں کی محبت سے دینی دنیاوی ہزاروں کام نکلتے ہیں،لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرلو پھر انہیں نمازی حاجی غازی بنادو مگر خیال رہے کہ لوگوں کی محبت حاصل کرنے کے لیے الله رسول کو ناراض نہ کرلو بلکہ لوگوں سے محبت الله رسول کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
۳
؎یعنی علم و تعلیم میں دو چیزیں ہوتی ہیں: شاگرد کا سوال،استاد کاجواب ان دونوں سے مل کر علم کی تکمیل ہوتی ہے،اگر شاگرد سوال اچھے کرے گا جواب بھی اچھے پائے گا۔ایک استاد اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ میں تم مل کر علم کا نصاب ہیں،حافظ قرآن تم ہو مفسر قرآن میں،سائل تم ہو مجیب میں۔(مرقات)ذہین طالب علم اچھے سوال کرکے علم کی باریکیاں حاصل کر لیتا ہے۔
۴
؎آخری حدیث طبرانی نے مکارم اخلاق میں حضرت ابن عمر سے اور خطیب نے حضرت انس سے بھی مرفوعًا روایت کی،احمد نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیماعال من اقصدجو خرچ میں میانہ روی کرے گا وہ غریب نہ ہوگا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5067