Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5056

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا حليم إلا ذو عثرة، ولا حكيم إلا ذو تجربة"رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہیں ہے بردبار مگر لغزش والا ۱∞؎اور نہیں ہے حکمت والا مگر تجربہ کار ۲؎(احمد،ترمذی)اور کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عمومًا انسان لغزشیں کرکے ٹھوکریں کھا کر بردبار و حلیم بنتا ہے کہ لوگ اس کی لغزشوں پر اسے اس کی غلطیوں پر مطلع کرتے ہیں،اسے شرمندہ کرتے ہیں تب کہیں جاکر وہ حلیم بنتا ہے،ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو دوسروں کی لغزش سے سبق لے لیں۔
۲
؎یعنی عمومًا لوگ تجربہ کرکے حکیم بنتے ہیں۔یہاں عام لوگوں کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم و حکیم ہے،یوں ہی حضرات انبیاء و اولیاء اول سے ہی علیم و حکیم ہوتے ہیں لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5056