Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5064

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ: قُمْ فَقَامَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَدْبِرْفَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَقْبِلْ فَأَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اُقْعُدْ فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ لَہٗ: مَا خَلَقْتُ خَلْقًا هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَلَا أَفْضَلُ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنُ مِنْكَ بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ وَبِكَ أُعَاتِبُ وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ العِقَابُ". وَقَدْ تَكَلَمَّ فِيهِ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لما خلق الله العقل قال له: قم فقام ثم قال له: أدبرفأدبر ثم قال له: أقبل فأقبل ثم قال له: اقعد فقعد ثم قال لہ: ما خلقت خلقا هو خير منك ولا أفضل منك ولا أحسن منك بك آخذ وبك أعطي وبك أعرف وبك أعاتب وبك الثواب وعليك العقاب". وقد تكلم فيه بعض العلماء

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب الله نے عقل کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا کہ کھڑی ہو وہ کھڑی ہوئی ۲؎پھر اس سے فرمایا پھر وہ پھری پھر فرمایا آگے آ،آگئی پھر اس سے فرمایا بیٹھ جا وہ بیٹھ گئی ۲؎پھر اس سے فرمایا کہ میں نے ایسی مخلوق کو نہیں پیدا کیا ۳؎جو تجھ سے بہتر تجھ سے افضل تجھ سے اچھی ہو۴؎تیرے ذریعہ میں پکڑوں گا تیرے ذریعہ دوں گا ۵؎تیرے ہی ذریعہ میں پہچانا جاؤں گا ۶؎تیرے ذریعہ عتاب کروں گا تجھ سے ثواب ہے اور تجھ پر ہی عذاب ۷؎اس حدیث میں بعض علماء نے گفتگو کی ہے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ اس وقت عقل مجسم تھی جس سے کھڑا ہونا بیٹھنا آگے پیچھے پھرنا ممکن تھا جیسے بعد قیامت موت دنبہ کی شکل میں لٹاکر ذبح کردی جاوے گی۔ظاہر یہ ہے کہ کھڑے ہونے بیٹھنے آنے جانے سے ظاہری معنی ہی مراد ہیں،ہر طرح گھماکر نظر کرم فرمانا عقل کی عزت افزائی کے لیے ہے کہ یہ الله کی بڑی نعمت ہے۔
۲
؎مقصد یہ ہے کہ رب العالمین نے عقل کو ہر طرح دیکھا اس کا اگلا حصہ پچھلا حصہ اسے اٹھا کر بٹھا کر وغیرہ۔
۳
؎یہاں مخلوق سے مراد صفات انسانی ہیں یعنی صفات انسانی میں سب سے بہترواعلیٰ و افضل صفت تو ہی ہے کہ تیرے ذریعہ سے انسان مجھے جانتا مانتا ہے،میرے نبیوں کی اطاعت کرتا ہے،ایمان و عرفان حاصل کرتا ہے لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ عقل افضل ہو حضرات انبیاء کرام یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے،ہاں عقل رسول دوسرے کی عقل سے افضل مگر خود رسول سے افضل نہیں کہ وہ حضرات افضل الخلق ہیں اور عقل بھی خلق ہے۔
۴
؎خیر سے مراد بذات خود اچھی جس کی ضرورت ہرشخص کو ہے،افضل سے مراد یہ ہے کہ وہ فضائل حاصل کرنے کا ذریعہ ہے،احسن سے مراد یہ ہے کہ اس عقل کے ذریعہ معاملات وغیرہ اچھے کیے جاتے ہیں۔
۵
؎اس طرح کہ اگر کوئی بے عقل بے عقلی میں گناہ کرے تو اسے نہ پکڑوں گا جیسے دیوانہ یا نا سمجھ بچے عاقل ہوکر گناہ کرے گا تو اسے پکڑوں گا،یوں ہی جو کوئی عقل و ہوش سے نیکی کرے گا اسے ثواب دوں گا،جو بے عقلی سے نیکی کرے گا اسے ثواب نہ دوں گا،دیکھ لو کفار کی نیکیوں کا ثواب کچھ نہیں کہ وہ بے عقلی سے کرتے ہیں اگر عقل سے کرتے تو مؤمن ہوکر نیکی کرتے، کٹے ہوئے درخت کو پانی دینے والا بے وقوف ہے پہلے جڑ قائم کرو پھر پانی دو۔
۶
؎بعض صوفیاء فرماتے ہیں جانوروں بلکہ نباتات و جمادات میں بھی عقل ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق الله تعالیٰ کو پہچانتی ہے اس کی تسبیح کرتی ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"اور معرفت الٰہی تو عقل سے ہوتی ہے یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے،منطقیوں کا کہنا کہ عقل صرف انسان میں ہے غلط ہے۔عقل کا وہ درجہ جس سے ثواب وعذاب ہو وہ صرف بعض انسانوں میں ہے،بے ہوش،دیوانے،ناسمجھ بچوں میں نہیں اگرچہ وہ مؤمن ہیں بلکہ بعض جانوروں کنکر پتھروں سے زیادہ نادان ہیں،دیکھو جانوروں لکڑیوں چاند سورج تاروں نے حضور انور کو پہچانا مگر نہ پہچانا ابوجہل وغیرہ کفار نے اس لیے قرآن کریم نے فرمایا: "اُولٰٓئِكَ کَالۡاَنْعٰمِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ
۷
؎یعنی عقل کی بنا پر احکام شرعیہ کی تکلیف ہے اور تیری ہی بنا پر آخرت میں لوگوں کو آخرت کا ثواب و عذاب ہے۔اس عقل سے مراد عقل انسانی ہیں،معرفت الٰہی کے لیے عقل کا اور درجہ درکار ہے ثواب و عذاب کے لیے دوسرا درجہ۔
۸
؎چنانچہ تقی الدین یعنی ابن تیمیہ وغیرہ نے اسے ضعیف بلکہ موضوع بتایا یوں ہی ابوجعفر عقیلی ابو حاتم لیثی،ابو الحسن دار قطنی ابن جوزی نے اسے صحیح نہیں مانا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5064