Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5066

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلْقِ

وعن أبي ذر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر لا عقل كالتدبير ولا ورع كالكف ولا حسب كحسن الخلق

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ۱∞؎اور بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں ۲؎اور اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎عقل دو قسم کی ہے: عقل مطبوع اور عقل مسموع۔تدبیر سے مراد عقل مسموع ہے کہ اس کے بغیر عقل مطبوع بے کار ہے، ہاں عقل مسموع کبھی عقل مطبوع کے بغیر مفید ہوجاتی ہے۔عقل مطبوع وہ ہے جو فطری طور پر یا تجربہ یا عقل کے ذریعہ حاصل ہو۔عقل مسموع وہ ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم سے حاصل ہو۔عقل مطبوع دنیاوی انجام کو معلوم کرتی ہے،عقل مسموع اخروی انجام کا پتہ چلاتی ہے،عقل مطبوع کے ساتھ جب عقل مسموع شامل ہو تو مفید ہے۔(مرقات)۲؎تقوی کے دو رکن ہیں: اچھے کام کرنا،برے کاموں سے بچنا مگر اس کا رکن اعلیٰ برے کاموں سے بچنا ہے۔ عبادات آسان ہیں مگر محرمات سے پرہیز،برے معاملات سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔بعض کے نزدیک ورع اور تقویٰ ایک ہی چیز ہے،بعض کے نزدیک محرمات سے بچنا تقویٰ ہے اور شبہ کی چیز سے بچنا ورع یا فرائض پر عمل تقویٰ ہے،سنت و مستحب پر عمل ورع۔خیال رہے نیکیاں گویا روحانی دوائیں ہیں گناہوں سے بچنا گویا روحانی پرہیز ،دوا بغیر پرہیز مفید نہیں ہوتی۔(اشعہ)۳؎لغت میں حسب بمعنی نسب ہے یا باپ کی طرف سے نسب ماں کی طرف سے حسب مگر یہاں اس سے مراد شرافت ہے یعنی شرافت صرف نسب سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق اچھے اعمال سے ہے،رب تعالیٰ فرماتا ہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتْقٰىکُمْ"اچھی عادت،عبادات معاملات بلکہ ایمان و عرفان سب ہی داخل ہیں،کتنی ہی تواضع کرے خوش اخلاق نہیں جس نے الله رسول سے بگاڑلی،جو انہیں راضی نہ کرسکا وہ خوش اخلاق کہاں سے آیا ہے یہ بات خوب یاد رکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5066