Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5054

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:"إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: اَلْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأشج عبد القيس:"إن فيك لخصلتين يحبهما الله: الحلم والأناة ".رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے سردار سے فرمایا ۱∞؎کہ تجھ میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے بردباری اور وقار ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عبدالقیس ایک قبیلہ کانام ہے،اشجبمعنی رئیس و سردار اس سردار کا نام منذر ابن عائذ تھا،یہ لوگ اپنی قوم کے نمائندہ بن کر اسلام لانے آئے تھے،دوسرے لوگ تو آتے ہی بھاگے ہوئے،حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر اس سردار نے اولًا غسل کیا،پھر عمدہ لباس تبدیل کیا،پھر نہایت وقار و سکون سے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوا،دونفل پڑھے،پھر دعا مانگی،پھر حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا حضور انور کو اس کی یہ ادا بہت پسند آئی تب یہ فرمایا۔(اشعہ)۲؎جب حضور انور نے اسے یہ بشارت دی تو وہ بولا کہ یارسول اللہ میری صفتیں کسبی ہیں یا رب تعالیٰ کی عطا کی ہوئی،فرمایا کہ رب تعالیٰ کی عطا تب اس نے سجدۂ شکر کیا،بولا کہ اگر میری کسبی ہوتیں تو قابل زوال ہوتیں رب کی عطا زائل نہیں ہوتی خدا کا شکر ہے جس نے مجھے وہ خصلتیں بخشیں ہیں جس سے وہ اور اس کے رسول راضی ہیں۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5054