Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5058

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أَعْلَمُهُ اِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍخَیْرٌ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن مصعب بن سعد عن أبيه قال الأعمش: لا أعلمه الا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: التؤدة في كل شيءخیر إلا في عمل الآخرة . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حصرت مصعب ابن سعد سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی اعمش ۲؎کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ۳؎فرمایا اطمینان سے کرنا ہر چیز میں اچھا ہے سواء آخرت کے کام کے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ مصعب خود تابعی ہیں مگر ان کے والد حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ صحابی اور عشرہ مبشرہ سے ہیں،حضرت مصعب نے اپنے والد سعد سے اور حضرت علی،ابن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین سے ملاقات کی ہے،بڑے مقدس بزرگ ہیں، ۱۰۳ھ؁∞ ایک سو تین میں وفات پائی۔
۲
؎اعمش بھی مشہور جلیل القدر تابعی ہیں،آپ کا نام سلیمان ابن مہران ہے،اسدی ہیں کاہلی ہیں، ۶۰؁∞ ہجری میں مقام ری میں پیدا ہوئے،کوفہ لائے گئے، ۱۴۸؁∞ ایک سو اڑتالیس میں وفات ہوئی۔
۳
؎یعنی غالب یہ ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے ممکن ہے کہ حدیث موقوف ہو کہ حضرت سعد ابن وقاص کا اپنا قول ہو۔
۴
؎یعنی دنیاوی کام میں دیر لگانا اچھا ہے کہ ممکن ہے وہ کام خراب ہو اور دیر لگانے میں اس کی خرابی معلوم ہوجائے اور ہم اس سے باز رہیں مگر آخرت کا کام تو لا محالہ اچھا ہی ہے اسے موقعہ ملتے ہی کرلو کہ دیر لگانے میں شاید موقعہ جاتا رہے۔بہت دیکھا گیا کہ بعض حاجیوں کو موقعہ ملا نہ کیا پھر نہ کرسکے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِ"بھلائیوں میں جلدی کرو شیطان کار خیر میں دیر لگواکر آخر اس سے روک دیتا ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ"۔کار خیر میں خرچ کرنے پر فقیری کا اندیشہ دلاتا ہے اور حرام کاموں میں خرچ کرنے پر نام کی امید دلاتا ہے کہ تمہارا نام ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5058