Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5059

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَ عِشْرِيْنَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبد الله بن سرجس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من أربع و عشرين جزءا من النبوة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سرجس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے اخلاق اور اطمینان اور میانہ روی ۱∞؎نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎سمتسین کے فتحہ میم کے سکون سے بمعنی دائمی عادت۔اقتصادوہ کام جو افراط و تفریط کے درمیان ہو جیسے جود یعنی سخاوت درمیان ہے فضول خرچی اور بخل کے یا شجاعت درمیانی حالت ہے ظلم اور بزدلی کے۔میانہ روی بعض اچھی ہے بعض بری یہاں اچھی میانہ روی مراد ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِكَ"اور فرماتاہے:"اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا"۔ بعض عارفین فرماتے ہیں کہ علم اچھا ہے جب کہ درمیانی ہوکہ عمل سے نہ روکے،عمل اچھا ہے جب کہ درمیانی ہو کہ علم سے نہ روکے۔(مرقات)
۲
؎یعنی حضرات انبیاء کرام بہت سی صفات سے موصوف ہوتے ہیں ان سے درمیانہ روی بھی ہے جسے یہ نصیب ہوئی اسے نبوت کی خصلت نصیب ہوئی۔چوبیسواں حصہ فرمانا یہ علوم نبوت سے ہے رب تعالیٰ جانے اس سے کیا مراد ہے۔(مرقات)اس کے متعلق کچھ عرض کیا گیا ہے تعبیر خواب کے بیان میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5059