Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5062

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّھِيَّانِ: هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟ قَالَ: لَا. فَقَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِخْتَرْ مِنْهُمَا . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ.خُذْ هٰذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهٗ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهٖ مَعْرُوفًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي الهيثم بن التھيان: هل لك خادم؟ قال: لا. فقال: فإذا أتانا سبي فأتنا " فأتي النبي صلى الله عليه وسلم برأسين فأتاه أبو الهيثم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اختر منهما . فقال: يا نبي الله اختر لي فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن المستشار مؤتمن.خذ هذا فإني رأيته يصلي واستوص به معروفا . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ابوالہیثم ابن تیہان سے فرمایا ۱∞؎کہ کیا تمہارے پاس خدمت گارہے انہوں نے کہا نہیں تو فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی آویں تو آنا ۲؎چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخص لائے گئے تو ان کی خدمت میں ابوالہیثم آئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک چن لو عرض کیا یا نبی الله آپ ہی چن دیں۳؎فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس سے مشورہ لیا جاوے وہ امین ہے ۴؎تم اسے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۵؎اور اس کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ مشکوۃ شریف باب ضیافت میں گزر چکا ہے۔یہ ابوالہیثم وہ ہی خوش نصیب صحابی ہیں جن کے باغ میں ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی الله عنہم بھوک کی حالت میں مہمان ہوئے تھے اور انہوں نے حضور کی شاندار مہمانی کی وہاں ہی آپ کے حالات بیان ہوچکے۔
۲
؎وہاں ادھار نہیں ہوتا کوئی معمولی نذر عقیدت پیش کرے وہاں سے مالا مال کردیا جاتا ہے،کھانا کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ ہم تم کو غلام عطا کریں گے۔۳؎یعنی آپ کا چناؤ میرے چناؤ سے بہتر ہوگا کہ حضور مجھ پر مجھ سے زیادہ مہربان ہیں۔حضور مصطفی مختار ہیں،حضور کے اختیار پر دار و مدار ہے۔(مرقات)جو حضور کے چناؤ میں آگیا وہ رب تعالیٰ کے چناؤ میں آگیا۔
۴
؎قیامت تک کے لیے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا کہ اگر تم سے کوئی شخص مشورہ کرے تو تم پر لازم ہے کہ خلاف مصلحت اسے مشورہ نہ دو اگر ایسا کیا تو تم خائن ہوگے،مشورہ لینے والا اگرچہ دشمن ہو مگر مشورہ اچھا دو۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ نمازی مسلمان کو اپنے کام کاج کے لیے ملازم رکھو،بیوی اولاد،خدام،دوست احباب،رشتہ دار وہ ہی اچھے جو نمازی ہوں،نمازی آدمیان شاءاللهمتقی پرہیزگار خیرخواہ ہوتا ہے جو خدا سے نہ ڈرے وہ بندے سے اور اس کا حق مارنے سے کیا ڈرے گا۔
۶
؎اس فرمان عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اس خادم کو ہمیشہ اچھی باتوں کی نصیحت وصیت کرتے رہنا اس کی اصلاح بھی تمہارے ذمہ ہے۔دوسرے یہ کہ تم اس کے متعلق میری وصیت قبول کرو کہ اس سے بھلائی کے ساتھ پیش آنا وہ حضرت یہ دوسرے معنی میں سمجھے اور انہوں نے گھر لے جا کر اسے آزاد کردیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5062