Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5055

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَنَاةُ مِنَ اللّٰهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّاوِي مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ

عن سهل بن سعد الساعدي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الأناة من الله والعجلة من الشيطان . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض أهل الحديث في عبد المهيمن بن عباس الراوي من قبل حفظه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱∞؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اطمینان اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بعض محدثین نےعبدالمھیمنابن عباس کے متعلق اس کے حافظہ کے بارے میں کچھ کلام کیا ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سہل بھی صحابی ہیں،آپ کے والد سعد بھی صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی فوت ہوئے۔
۲
؎یعنی دنیاوی یا دینی کاموں کو اطمینان سے کرنا اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہے اور ان میں جلد بازی سے کام لینا شیطانی وسوسہ ہے۔اس ترجمہ اور شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"اور نہ اس آیت کے خلاف ہے"یُسَارِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ"کہ وہاں سرعت یعنی دینی کام میں دیر نہ لگانے جلد ادا کرلینے کی تعریف ہے اور یہاں خود کام میں جلد بازی کرنا کہ کام بگڑ جائے اس سے ممانعت ہے،بعض لوگ دو منٹ میں چار رکعتیں پڑھ لیتے ہیں یہ ہے عجلت نفس،عبادت میں جلدی بری ہے۔
۳
؎یعنی مہیمن ابن عباس ہیں تو متقی پرہیزگار مؤمن کامل مگر ان کا حافظہ کمزور تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5055