Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5065

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ . حَتّٰى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا: وَمَا يُجْزٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهٖ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الرجل ليكون من أهل الصلاة والصوم والزكاة والحج والعمرة . حتى ذكر سهام الخير كلها: وما يجزى يوم القيامة إلا بقدر عقله

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک شخص نماز روزے زکوۃ حج وغیرہ والوں میں سے ہوتا ہے حتی کہ حضور نے نیکی کے سارے اقسام بیان فرمائے ۱∞؎مگر قیامت میں اپنی عقل کے مطابق ہی بدلہ دیا جاوے گا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جہاد،تبلیغ،لیثی،تعمیرمساجد وغیرہ تمام نیکیوں کا نام لیا کہ بعض لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ثواب کم پاتے ہیں۔
۲
؎چنانچہ بے وقوفوں کو ان نیکیوں کا ثواب کم ملتا ہے عقل مندوں کو زیادہ،جہاں مسجد کی ضرورت نہ ہو وہاں دس بیس مسجدیں بنوا دینے کا ثواب کم بلکہ بالکل ہی نہ ملے گا اور اگر وہاں پانی کی کمی ہو وہاں ایک کنواں کھدوا دینے کا ثواب ان مسجدوں سے زیادہ ہوگا۔
لطیفہ: پٹنہ کے ایک بزرگ ہر پانچ قدم پر دو رکعتیں پڑھتے ہوئے حج کو پیدل جارہے تھے دس سال میں وہ گجرات پہنچے ہم نے کہا کہ اگر وہ ہوائی جہاز سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے اور اتنے روز وہاں رہ کر نوافل پڑھتے تو فی رکعت ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5065