Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5057

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهٖ خَيْرًا فَأَمْضِهٖ وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ .رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أنس أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: أوصني. فقال: خذ الأمر بالتدبير فإن رأيت في عاقبته خيرا فأمضه وإن خفت غيا فأمسك .رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمایئے ۱∞؎تو فرمایا کام تدبیر سے اختیارکرو ۲؎پھر اگر اس کے انجام میں بھلائی دیکھو تو کر گزرو اور اگر گمراہمی کا خوف کرو تو باز رہو ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎کہ جب میں کسی کام میں حیران ہوجاؤں تو کیا کروں جیساکہ جواب سے ظاہر ہے۔حضرات صحابہ ہر دینی و دنیاوی کام میں حضور انور سے مشورہ لیا کرتے تھے۔
۲
؎تدبیربنا ہےدبرسے بمعنی پیچھے یا انجام،تدبیر کے معنی ہیں انجام سوچنا یعنی جو کام کرنا ہو پہلے اس کا انجام سوچو پھر کام شروع کرو۔
۳
؎یعنی اگر تم کو کسی کام کے انجام میں دینی یا دنیاوی خرابی نظر آئے تو کام شروع ہی نہ کرو اور اگر شروع کرچکے ہو تو باز رہ جاؤ اسے پورا نہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5057