Main Icon

باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5063

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " اَلْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ اَوْ اِقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ".رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ فِي بَابِ المُبَاشَرَةِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المجالس بالأمانة إلا ثلاثة مجالس: سفك دم حرام أو فرج حرام او اقتطاع مال بغير حق".رواه أبوداود وذكر حديث أبي سعيد: إن أعظم الأمانة في باب المباشرة في الفصل الأول

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں ۱∞؎سواء تین مجلسوں کے حرام خون بہانے کی یا حرام شرم گاہ کی یا ناحق مال مارنے کی مجلسیں ۲؎(ابوداؤد)اور ابو سعید کی حدیثان اعظم الامانہ،الخمباشرۃکے باب کی پہلی فصل میں ذکر کردی گئی ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب کوئی خاص مجلس یا میٹنگ کی جاوے وہاں جو کچھ طے ہو اسے مشتہر نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ پاس ہوا وہ امانت ہے۔
۲
؎یعنی اگر کسی مجلس خصوصی میں کسی گناہ کا،کسی کی حق تلفی کا،کسی پرظلم کرنے کا مشورہ کیا گیا تو اسے نہ چھپائے بلکہ مظلوم کو فورًا خبر دیدے کہ تو بچے رہنا تیرے متعلق یہ مشورہ ہو رہا ہے اگر چھپائے گا تو گنہگار ہوگا۔
۳
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں اس جگہ تھی مگر ہم نے مناسبت کے لحاظ سے اس جگہ روایت کردی وہاں مطالعہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5063