Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3405

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ فَلَا شَيْءَ لَهُ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من اشترى عبدا فلم يشترط ماله فلا شيء له". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو غلام خریدے اس کے مال کی شرط نہ لگائے تو اسے کچھ نہ ملے گا ۱؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎غلام کے مال سے مراد اس کا مقبوضہ مال ہے نہ کہ مملوکہ مال کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا وہ خود اپنے مولے کا مال ہے یعنی کسی نے کسی شخص کا غلام ماذون خریدا جسے خریدو فروخت کی اجازت تھی اور اس کے مقبوضہ مال کی شرط نہ لگائی تویہ سارا مال فروخت کرنے والے مولے ٰ کا ہوگا اسے صرف غلام ملے گا ہاں اگر یہ خریدار کہہ لیتا کہ میں یہ غلام اور اس کا مقبوضہ مال خریدتا ہوں تب یہ مال خریدار کا ہوتافلا شیئ لہمیںلہکا مرجع خریدار ہے یعنی خریدار کو کچھ مال نہ ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3405