Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3394

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا ولدت أمة الرجل منه فهي معتقة عن دبر منه أو بعده". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کسی کی لونڈی اس سے بچہ جن دے تو وہ اس کے پیچھے یا اس کے مرے بعد آزاد ہے ۱؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب کوئی شخص اپنی لونڈی سے صحبت کرے اور اس سے بچی یا بچہ پیدا ہوجائے تو یہ لونڈی مدبر غلام کے حکم میں ہے کہ اس کے مرے بعد آزاد ہوگی۔عن دبراو بعدہکسی راوی کے شک کی بنا پر ہے یعنی مجھے خیال نہیں کہ حضرت ابن عباس نےعن دبرمنہروایت فرمائی یا فرمایابعدہدونوں عبارتوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ام ولد کی بیع یا ہبہ یا وصیت جائز نہیں،اس پر تمام امت کااجماع ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے ام ولد کی بیع کے قائل تھے بعد میں آپ نے اس سے رجوع فرمالیا جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3394