Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3403

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ، فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَمَاتَتْ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ ابْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ ابْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نَعَمْ". رَوَاهُ مَالِكٌ.

عن عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري: أن أمه أرادت أن تعتق، فأخرت ذلك إلى أن تصبح، فماتت، قال عبد الرحمن: فقلت للقاسم ابن محمد: أينفعها أن أعتق عنها؟ فقال القاسم: أتى سعد ابن عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن أمي هلكت فهل ينفعها أن أعتق عنها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "نعم". رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابو عمر انصاری سے ۱؎کہ ان کی ماں نے آزاد کرنا چاہا پھر صبح تک دیر لگائی وہ فوت ہو گئیں۲؎عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے قاسم ابن محمد سے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو کیا انہیں نفع دے گا۳؎تو قاسم بولے کہ سعد ابن عبادہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئےعرض کیا کہ میری ماں وفات پاچکیں کیا انہیں نفع دے گا یہ کہ میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۴؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎عبدالرحمن تابعی ہیں،ثقہ ہیں،قاضی مدینہ منورہ ہیں،ان کی احادیث مضطرب ہوتی ہیں،ان کے والد کا نام عمرو ابن حصین ہے یا ثعلبہ ابن عمرو ابن حصین وہ صحابی ہیں۔(اشعہ و مرقات)ان کی والدہ کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر وہ صحابیہ نہیں تابعیہ ہیں۔
۲
؎یعنی شام کے وقت لونڈی یا غلام آزاد کرنا چاہا مگر کہا کہ صبح آزاد کروں گی رات میں اچانک فوت ہوگئیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرے دیر نہ لگائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ
۳
؎یعنی میں نے حضرت قاسم ابن محمد ابن ابوبکر صدیق سے مسئلہ پوچھا کہ اگر اب ان کی طرف سے میں غلام آزاد کردوں تو کیا انہیں ثواب ملے گا۔
۴
؎حضرت قاسم نے مسئلہ نہ بتایا بلکہ مسئلہ کی دلیل بتادی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے صدقہ و خیرات و نفل نماز کا ثواب کسی کو بخشنا جائز ہے یوں ہی غلام لونڈی آزاد کرکے اس کا ثواب بخش دینا بھی جائز ہے اور یہ ثواب میت کو ضرور پہنچتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3403