Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3389

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من أعتق شقصا في عبد أعتق كله إن كان له مال، فإن لم يكن له مال، استسعي العبد غير مشقوق عليه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے غلام میں ایک حصہ آزاد کیا تو وہ پورا آزاد ہوگیا اگر اس کے پاس مال ہواور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے بغیر اس پر مشقت ڈالے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے معنی صاحبین کے ہاں یہ ہیں کہ اگر آزاد کرنے والا فقیر ہے تو غلام پورا آزاد ہوگیا مگر کمائی کرے باقی مالکوں کو اپنے بقیہ حصے کی قیمت ادا کرے اور امام صاحب کے ہاں یہ معنی ہیں کہ ابھی اس کا ایک حصہ ہی آزاد ہوا جب کمائی کرکے اپنی بقیہ قیمت ادا کرے گا تب باقی آزاد ہوگا،امام شافعی کے ہاں یہ معنے ہیں کہ اس صورت میں غلام کا ایک حصہ آزاد ہوگیا باقی مالک بدستور اپنے اپنے حصوں میں اس سے اپنا کام لیں بلکہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ جملہاستسعی العبدالخ حضور کا فرمان ہے ہی نہیں یہ قتادہ راوی کا اپنا قول ہے مگر حق یہ ہے کہ يه حضور ہی کا فرمان ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3389