Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3390

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَدَعَا بهم رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" بَدَلَ: "وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا"، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: وَقَالَ: "لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ".

عن عمران بن حصين: أن رجلا أعتق ستة مملوكين له عند موته لم يكن له مال غيرهم، فدعا بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فجزأهم أثلاثا، ثم أقرع بينهم، فأعتق اثنين، وأرق أربعة وقال له قولا شديدا. رواه مسلم، ورواه النسائي عنه وذكر: "لقد هممت أن لا أصلي عليه" بدل: "وقال له قولا شديدا"، وفي رواية أبي داود: وقال: "لو شهدته قبل أن يدفن لم يدفن في مقابر المسلمين".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ۱؎اس کے پاس سوائے ان کے اور کوئی مال نہ تھا۲؎تو انہیں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے بلایا تو ان کے تین حصے کیے پھر ان میں قرعہ ڈالا۳؎چنانچہ دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا ۴؎اور میت کے لیے بہت سخت الفاظ فرمائے ۵؎اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا اگر ہم دفن کیے جانے سے پہلے ہوتے تو وہ مسلمان کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ ان سب سے کہہ دیا تم سب آزاد ہو جاؤ یہ نہ کہا کہ میرے بعد آزاد ہوجاؤ گے یعنی عتق تنجیزی تھا۔
۲
؎اگر اس مرنے والے کے پاس ان غلاموں کے سواء اور مال ہوتا کہ یہ غلام اس کا تہائی بن جائے تو یہ سب آزاد ہوجاتے کہ مرتے وقت اپنے تہائی مال میں تصرف جائز ہے زیادہ میں نہیں۔
۳
؎یہ چھ غلام زنجی تھے سب کی قیمت برابر تھی اگر قیمت میں کمی بیشی ہوتی تو دو غلام آزاد نہ ہوتے بلکہ تہائی مال میں جتنے آتے وہ آزاد ہوتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ مرتے وقت کا آزاد کرنا یوں ہی صدقہ خیرات و ہبہ وغیرہ درست ہے، دوسرے یہ کہ اس وقت یہ تمام کام اپنے تہائی مال میں کرسکتا ہے کہ باقی دو تہائی مال اس کے وارثوں کا ہے۔
۴
؎امام اعظم اور امام شعبی،امام شریح و خواجہ حسن بصری کا فتویٰ یہ ہے کہ اس صورت میں ان چھ غلاموں کا تہائی آزاد ہوگا یعنی ہر ایک غلام کا ۳/۱ حصہ اور ہر غلام اپنے ۳/۲ دو تہائی آزاد کرانے کے لیے کمائی کریں قیمت اداکرکے آزاد ہوجائیں۔
۵
؎کیونکہ اس نے ناجائز کام کیا جس مال سے وارثوں کا حق متعلق تھا انہیں آزاد کردیا،معلوم ہوا کہ مردے کو دینی قصور کی وجہ سے برا کہا جاسکتا ہے۔وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ اپنے مردوں کو بھلائی سے یاد کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی وجہ سے اسے برا نہ کہو۔(اشعہ)
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ عبرت کے لیے اگر امام کسی غلطی کرنے والے پر خود نماز نہ پڑھے دوسرے سے پڑھوادے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان سے علیٰحدہ دفن کرادے تاکہ لوگ آئندہ ایسی غلطی نہ کریں تو درست ہے یہ تبلیغ کی ایک قسم ہے۔شاید اس شخص کی وفات اور دفن کے وقت سرکار مدینہ منورہ سے باہر سفر میں ہوں گے ورنہ عمومًا حضور صحابہ کرام کے کفن دفن میں شرکت فرماتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3390