Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3402

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: "يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حُرٍّ وَمَا بَقِي دِيَة عَبْدٍ". وَضَعَّفَهُ.

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أصاب المكاتب حدا أو ميراثا ورث بحساب ما عتق منه". رواه أبو داود والترمذي، وفي رواية له قال: "يودى المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد". وضعفه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب مکاتب سزا یا وراثت کو پہنچےتو اس حساب سے وارث کیا جائے گا جتنا آزاد ہوچکا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دیت دیا جائے گا مکاتب ادا کیے ہوئے حصہ کی آزاد کی دیت اور باقی کی غلام کی دیت اور اسے ضعیف کہا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سزا اور وراثت میں مکاتب آزاد بھی مانا جائے گا اور غلام بھی،جتنا زر کتابت ادا کرچکا ہے اتنا آزاد ہوگا جتنا زر کتابت اس کے ذمہ ہے اتنے میں غلام مثلًا ایک شخص ایک ہزار روپیہ پر مکاتب تھا اور پانچ سو ادا کرچکا تھا اب اس مکاتب کا والد جو آزاد و مالدار تھا فوت ہوگیا اورمکاتب اس کا اکلوتا بیٹا ہے جو سارے ترکہ کا وارث ہونا چاہیے تو اب یہ مکاتب آدھے ترکہ کا وارث ہوگا کیونکہ یہ آدھا آزاد ہے،اسی طرح اگر اس مکاتب کو کسی نے قتل کردیا قاتل پردیت واجب ہوئی اس مکاتب کی قیمت مثلا ً ایک سو روپیہ تھی تو قاتل اس مقتول مکاتب کی آدھی دیت یعنی پچاس اونٹ اس مکاتب کے وارثوں کو دیں گے اور آدھی قیمت یعنی پچاس روپیہ مالک کو ادا کریں گے۔
۲
؎یودیدیت کا مضارع مجہول ہےودی یدیبابضربسے یعنی دیت دیا جائے گا اورادی تادیتکا ماضی معروف یعنییودیکے پیش واؤ کے سکون د کے فتح سے ہے اورادّیدال کے شد و فتح سے ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ آزاد مقتول کی دیت سو اونٹ ہے اور غلام مقتول کی دیت پچاس اونٹ اوریہ مکاتب آدھا زر کتابت ادا کرچکا ہے تو اس کی دیت پچھتراونٹ ہوگی مگر چونکہ مولے کو مقتول غلام کی دیت نہیں ملتی بلکہ غلام کی قیمت ملتی ہے اس لیے اسے آدھی قیمت دی جاوے گی۔
۳
؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مکاتب جس قدر زر کتابت ادا کرچکا اتنا آزاد ہے مگر پچھلی حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک اس کے ذمہ ایک پیسہ بھی ہے وہ غلام ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث کے متعارض نہیں ہوسکتی اور سوائے امام نخعی کے کسی امام نے اس پر عمل نہیں کیا سب کے ہاں ایسا مکاتب نہ اپنے کسی عزیز کا وارث ہو اور نہ اس کی دیت وارثوں کو دی جائے بلکہ اس کی پوری قیمت مولے کو دی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3402